پاکستانی نوجوان اور تعلیم


Warning: sprintf(): Too few arguments in /home/awazepak/public_html/wp-content/plugins/addthis/addthis_social_widget.php on line 1538

وہ تمام افراد جن کی عمریں 15-29 برس کے درمیان ہوں ، یوتھ یعنی نوجوان کہلاتے ہیں ۔ انھیں معاشرے کا سب سے فعال اور چاق و چوبند طبقہ سمجھاجاتا ہے کیونکہ عمر کے اس حصے میں انسان مسلسل زیادہ ذہنی وجسمانی محنت کرسکتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ نوجوان نسل ملک و قوم کا بیش بہا اثاثہ ہوتا ہے۔ اسے فرض شناسی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاکر صحیح سمت کی طرف رواں کیا جائے تو نہ صرف ہر شعبہ ہائے زندگی اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی میں نئی تاریخ رقم کرسکتا ہے۔

پاکستان کو یوتھ کی تعداد کے اعتبار سے خوش قسمت ملک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ملک کی کل بادی کا ایک بڑا حصہ یعنی 25 ملین نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 1998 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی بادی کا ہر پانچواں فرد 15-24 سال کے درمیانی عمر کا ہوتا ہے۔پاکستانی یوتھ ج ان گنت مسائل میں پھنسا ہوا ہے۔ ان میں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ تعلیم ہے۔ اس کے سبب دیگر کئی مسائل جنم لیتے ہیں ۔

تعلیم

بقول نیلسن منڈیلا ’’تعلیم ہی وہ طاقتور ترین ہتھیار ہے جس کے ذریعے پوری دنیا کو تبدیل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی علم و تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اور یہ معاشرے کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ مگر بدقسمتی سے ملک میں اس شعبے کو روز اول سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اپنے قیام کے 66 سال بعد بھی اس ملک میں سالانہ بجٹ کا صرف دو فیصد حصہ شعبہ تعلیم کے لیے مختص ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرض دینے والے سرمایہ دار ادارے جیسے عالمی بینک، آئی ایم ایف اور ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کی قرضوں پرسود کی ادائیگی اور دفاع پر خرچ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا نظام تعلیم دن بدن بہتر ہونے کے بجائے بدتر اور تنزلی کی طرف سفر کررہا ہے۔

tسرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی 46 فیصد ہے اور بد قسمتی سے اس شرح میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو فقط اپنا نام لکھنا جانتے ہیں ۔ 1998 کی مردم شماری کے مطابق 15-27 سال کے عمر کے 37 فیصد لڑکے اور دھے سے زیادہ لڑکیاں ناخواندہ ہیں اور شرح خواندگی میں شامل افراد میں 33 فیصد لڑکے اور 37 فیصد لڑکیاں صرف پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کرپاتے ہیں ۔ 50 لاکھ بچے اسکول نہیں جاپاتے ہیں ۔ جن میں 66 فیصد لڑکیاں ہیں ۔ اس شرح میں ہم نے بھارت 30 فیصد، نیپال 22 فیصد اور بنگلہ دیش 44فیصدکو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایک حالیہ عالمی سروے کے مطابق پاکستان 120ملکوں میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی درجہ بندی میں نچلی ترین سطح کے دوسرے نمبر پر ہے۔ ان میں اخری نمبر نائجریا کا ہے۔1

دیہی علاقوں میں شرح ناخواندگی خطرناک حدتک اونچی ہے۔ 60 فیصد دیہی علاقوں کی لڑکیوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہیں یعنی وہ کبھی کسی تعلیمی ادارے میں داخل نہیں ہوتیں ۔ جس کے سبب انھیں زندگی میں لاتعداد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً ملک کی پیداواری نظام میں بھرپور حصہ لینے کے باوجود بہتر روزگار کے حصول اور خوشحالی میں ناکامی شامل ہیں ۔

ملک کا نظام تعلیم چار مختلف اقسام میں بٹا ہوا ہے اور ہر نظام کا طریقہ تدریس، تدریسی مواد، معلم کا رویہ، طالب علم کا رویہ نہ صرف ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں بلکہ بعض اوقات ایک دوسرے سے متصادم بھی نظر تے ہیں ۔ ان مختلف اقسام کا انتخاب مختلف طبقات کرتے ہیں ۔ مثلاً کسی بیورو کریٹ کی اولاد سرکاری اسکول نہیں جائیں گی اور نہ ہی کسی مزدور کا بیٹا بیکن ہاوس جیسے مہنگے ترین اسکولوں میں داخلہ لے سکتا ہے۔

سرکاری اسکول

سرکاری اسکول کے انتظام اور مالی معاملات سرکار کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ پاکستان بیورو ف اسٹیٹیٹکس کے مطابق ملک میں پرائمری اسکولوں کی تعداد 1,77,724 ہے اور ان میں سے 70 فیصد سرکاری اسکول ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے کہیں یہ صرف نام کے اسکول، کہیں جاگیرادار کا اصطبل اور کہیں منافع خور اسے گودام کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف صوبہ سندھ میں 27 اضلاع میں 6,721 ایسے اسکول ہیں جن کا وجود صرف کاغذوں پر موجود ہے۔2 ان میں درس و تدریس کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان اسکولوں کو نہ طالبان نے بند کرایا ہے اور نہ کسی خود کش بمبار نے۔ اس کا مجرم علاقے کا جاگیردار ہے۔ یہ کام وہ بلا خوف، بنا کسی جھجک کے کھلے عام سر انجام دیتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا ہے کہ لوگوں میں علم، شعور اور گہی پیدا ہو۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اگر تعلیم باسانی غریب کے دسترس ہوگی تو باشعور ہوگا اور اپنے حقوق پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان اسکولوں کو بند کیا جاتا ہے۔ اس جرم میں حکومت برابر شریک ہوتی ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے کام خوش اسلوبی سے انجام نہیں دیتے۔ دوسری جانب یہ جاگیردار اتنا با اثر ہوتا ہے کہ علاقے کی پولیس، میڈیا اور دیگر ادارے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔

یہاں سرکاری اسکول کا انتخاب غریب طبقہ کرتا ہے جو نجی تعلیمی اداروں کی فیس ادا نہیں کرسکتا۔ یونیسکو کے مطابق اٹھارہ کروڑ کی بادی والے ملک جس میں نوجوانوں کی تعداد 25 ملین ہے میں صرف 1,63,000 سرکاری اسکول ہیں ان میں سے 40,000 برائے خواتین ہیں ۔ اگر ہم صوبائی سطح پر دیکھیں تو 15,000 تعلیمی ادارے پنجاب میں 13,000 سندھ میں 8,000 کے پی کے اور چار ہزار بلوچستان میں واقع ہیں ۔ ملک بھر میں چودہ ہزار لوئر سیکنڈری اسکول میں 5.4 ملین طلبائ اور 10 ہزار ہائر سکنڈری اسکولوں میں 3 ملین طلبائ زیر تعلیم ہیں ۔ 3 بدقسمتی سے اس شعبے کے ساتھ ناروا سلوک ایک عرصے سے جاری ہے کرپشن ، اقربا پروری، من پسند کی بھرتیاں اور میرٹ کی قتل عام کی خبریں عموماً اخباروں کی زینت بنتی ہیں ۔ احتساب کا کوئی نظام نہ ہونے کے سبب تنزلی کی طرف سفر جاری ہے۔4 جیسے چند ماہ قبل محکمہئ تعلیم گلگت بلتستان نے گریڈ 14کی خالی اسامیوں کو مشتہر کیا۔اخباری بیانات کے مطابق کھلے عام ایک سیٹ چار سے آٹھ لاکھ روپے میں بکتی رہی۔ مقامی اخباروں کے مطابق وہاں کے وزیر تعلیم براہ ِ راست ملوث تھے۔ یہ خبر اخباروں میں شائع ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

نجی تعلیمی ادارے

پرائیوٹ اسکول/کالج کسی ایک فرد یا چند افراد کی ذاتی ملکیت ہوتی ہے۔ کسی بھی فرد یا افراد کا کوئی نجی تعلیمی ادارہ کھولنے کا مقصد منافع کماناہوتا کیونکہ ج یہ منافع بخش کاروبار بن گیا ہے اور اسکول سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک ادارے تعمیر کیے جاتے ہیں اور بے انتہا منافع کمارہے ہیں ۔ ایسے تعلیمی اداروں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ ہمیں شہر میں کئی جگہوں پر بڑی تعداد میں اسکول نظر تے ہیں ۔ جن کے اوپر ’’داخلے جاری ہیں ‘‘ کا بینر سارا سال لگا رہتا ہے۔ صبح کے اوقات میں اسکول اور شام میں ’’کوچنگ سینٹر‘‘ چلائے جاتے ہیں ۔ اب دیہاتوں اور گاں کی سطح پر بھی دن بدن ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ قومی تعلیمی مردم شماری 2000, 2007-8 کے مطابق ملک میں پرائمری نجی اسکولوں کی تعداد میں 18فیصد ،آٹھویں جماعت تک 98 فیصد اور دسویں جماعت تک کے نجی تعلیمی اداروں میں 105 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں میں پچھلے چودہ سالوں میں 105فیصد اضافہ ہو اہے۔

ایک نجی تعلیمی ادارے کے طلبائ سے بات چیت کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ان اداروں میں کس طرح مختلف بہانوں سے طالب علموں سے کئی مد میں پیسے حاصل کئے جاتے ہیں ۔ داخلے کے وقت ’’سیکورٹی فیس‘‘ کے نام پر پیسے لیے جاتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ خارج ہوتے وقت وہ پیسے واپس دے دیے جائیں گے۔ مگر عموماً واپس نہیں ہوتے۔ سہمائی امتحانات کی فیس، ششماہی امتحانات کی فیس، پھر ایڈمٹ کارڈ کی الگ فیس، غیر حاضر ہوجانے پر جرمانے کے نام پر فیس اکثر نجی اسکول میں وصول کی جاتی ہے۔غرض کہ کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جہاں پیسے کمانے کی گنجائش ہو۔ اب ان اسکولوں نے کاپیوں کی جلدیں اسکول کے نام سے ساتھ شائع کراکر دوگنی قیمت پر بچوں کو فروخت کرتے ہیں اور انہیں پابند کرتے ہیں کہ تمام طلبائ اسکول ہذا سے ہی کاپیاں اور کتابیں خریدیں ۔ ان اسکولوں میں درس و تدریس انگریزی زبان میں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ اسکول ایسے اساتذہ، خصوصاً لڑکیوں کو بھرتی کرتے ہیں جو کم سے کم تنخواہ پر کام کرنے کے لیے راضی ہوں ۔ ان کی صلاحیتوں کا قطعاً کوئی اندازہ نہیں لگایا جاتا۔

شہر میں موجود چھوٹے نجی اسکولوں کی ماہانہ فیس 500 سے1000 کے درمیان ہوتی ہے۔ ان اسکولوں میں درس و تدریس کے لیے خواتین جن میں سے اکثر نوجوان لڑکیاں ہوتی ہیں کو تر جیع دی جاتی ہے۔ ان کی تعلیمی قابلیت کم سے کم میٹرک اور زیادہ سے زیادہ ایم اے ہوتی ہے۔ میٹرک اور انٹر پاس اساتذہ کو 1200 سے 3000 ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ بی اے اور ایم اے ڈگری والے اساتذہ کو 6000 سے 8000 ماہانہ تنخواہ دہ جاتی ہے۔ لڑکیوں کو بطور ٹیچر بھرتی کرنے میں اسکول مالکان کو فائدہ ہوتا ہے وہ کم تنخواہ پر کام کرنے کو راضی ہوجاتی ہیں اور باسانی ان سے زیادہ کام لیا جاسکتا ہے۔ ان اسکولوں میں بیشتر اساتذہ کوبغیر ٹسٹ کے ان کی قابلیت کوبِنا جانچے بھرتی کیا جاتا ہے۔

کیمریج سسٹم،اے /او لیول

نجی تعلیمی اداروں کے اس قسم میں ملک کا امیر طبقہ تعلیم حاصل کرتا ہے۔ یہاں کا نصاب اور تدریس مواد برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کا ترتیب کردہ ہوتا ہے جسے او/ اے لیول کہا جاتا ہے۔ یہ تعلیمی ادارے عموماً اونچی اور بڑی عمارتوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور درس و تدریس کا عمل انگریزی زبان میں ہوتا ہے۔ ان کی ماہانہ فیس 10 ہزار سے 30 ہزار تک ہوتی ہے۔

تعلیمی معیار اور تدریسی مواد باقی تمام اقسام سے مختلف ہوتا ہے۔ ٹھویں جماعت سے ہی بچے کو شماریات، جغرافیہ اور بنیادی تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔ یہ تمام مضامین ملک میں رائج دیگر تعلیمی نظام کے دیگر اقسام میں سطحی طور پر پڑھایا جا تاہے۔ ان اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں مثلاً کھیل کے مقابلے، تقریری مقابلے، رٹ کے مقابلے، مباحثے منعقد کرائے جاتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان اداروں میں طلبائ سیکھنے کے تمام مواقعے اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔ ان اسکولوں میں اساتذہ کو مناسب طریقے سے ان کی قابلیت کی جانچ پڑتال کے بعد بھرتی کرتے ہیں ۔ انھیں میڈیکل اور آنے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں ۔ ان اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں دیگر تعلیمی نظام میں پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہوں سے تین چار گنا زیادہ ہوتی ہیں ۔
مدارس

عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مذہبی سوچ کے حامل والدین اپنی اولاد کو مدارس میں داخل کراتے ہیں ۔ مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ اس کے پیچھے کئی اور وجوہات بھی شامل ہیں ۔ ہمارے ارد گرد کئی ایسے مذہبی رجحان رکھنے والے افراد بستے ہیں جن کے بچے انگریزی میڈیم اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں ۔ مدارس میں داخل کیے جانے کے کئی وجوہات ہیں اور وقت گزرنے کے سات ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ طارق رحمان کے مطابق 1947 میں ملک میں صرف 137 مدارس تھے اور اپریل 2002 تک ان کی تعداد 10,000 تک پہنچ گئی ہے جن میں 1.7 میں طلبائ رہائش پزیر ہیں اور تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔

یہ سوچ بھی عام ہے کہ مدارس میں بچوں کو مفت خوراک، لباس اور رہن سہن کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔ اسی وجہ سے ملک کا وہ انتہائی غریب طبقہ جو اپنی اولاد کو ملک میں موجود دیگر تعلیمی نظام کے اقسام میں داخل نہیں کراسکتا اور زیادہ تر ایسے افراد جو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتے اور ان کا تن نہیں ڈھانپ سکتے مدارس میں داخل کراتے ہیں ۔ مدارس میں بچوں کے ساتھ تشدد کی خبریں معتدد بار میڈیا میں آچکی ہیں ۔ کیونکہ بیشتر مدارس کے اساتدہ خود تعلیم و تربیت سے آراستہ نہیں ہوتے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ کی مدد سے رٹوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مدارس کے قاری کے رویے اور جسمانی و جنسی ور پر ہراساں کرنے کی خبریں بھی بارہا آچکی ہیں ۔8,7 کراچی میں تین سال قبل اس نوعیت کے ایک واقعے میں قاری نے سات سالہ بچے کی ٹانگ توڑ دی تھی۔ 9اسی طرح کے ایک اور واقعے میں ملتان میں مدرسے کے استاد نے سات سالہ بچے کا سر ڈنڈے سے مار کر پھاڑ دیا تھا۔10 اس طرح کے واقعات کے رونما ہونے کے باوجود ملک میں مدرسہ جانے والوں کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں مدارس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں مدارس کے پانچ بورڈ ہیں سب سے بڑے بورڈ وفاق المدارس العربیہ کے ساتھ نو ہزار مدارس وابستہ ہیں ۔ اس کے علاوہ تنظیم المدارس اہلسنت، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس شعبہ اور جماعت اسلامی کے رابطہ المدارس الاسلامیہ کے ساتھ 13,000 سے زائد مدارس وابستہ ہیں ۔ ان مدارس میں 30 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔

tپاکستان میں مدارس کے سب سے بڑے بورڈوفاق المدارس کے نصاب میں باقاعدہ اردو، انگریزی، ریاضی اور سائنس شامل ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ مگر اسی بورڈ کے تحت چلنے والے مدرسوں ، جو کراچی سے گلگت ، چترال تک پھیلے ہوئے ہیں میں لڑکیوں کو انگریزی، ریاضی اور سائنس کے مضامین نہیں پڑھائے جاتے ہیں ۔ایک ہی کلاس کے لڑکوں کے لئے الگ اور لڑکیوں کوالگ نصاب ترتیب دیا ہوا ہے۔ لڑکیوں کو قرآن، قصص الانبیا ، کتاب النکاح اور بہشتی زیور پڑھایا جاتا ہے۔

tپاکستان میں خصوصاً بلوچستان اور کے پی کے کے چند علاقوں میں لڑکیوں کو اس جواز کے ساتھ اسکول نہیں بھیجا جاتا ہے کہ ہمارا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں جو علم و تعلیم کی اجازت نہیں دیتا ہو۔ حدیث مبارکہ ہے کہ ’’علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے‘‘۔ اس حدیث میں صرف مردوں کو علم کی تلاش میں چین جانے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہاں کچھ لوگ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مذہب کو استعمال کرتے ہیں ۔

tایک رپورٹ کے مطابق کے پی کے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجہ سے چھ لاکھ بچوں کا ایک سال یا اس سے زیادہ وقت ضائع ہوا۔ کئی اسکولوں کو بم سے اڑا دیا گیا اور 715 اسکولوں کو نقصان پہنچایا گیا۔14/1 دنیا کا کونسا مذہب اس قسم کے گھنانے اور پرتشدد احکامات کی اجازت دیتا ہے تو گویا اسلام کو علم و تعلیم کا منافی اور مخالف قرار دینا سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ مندرجہ ذیل دی گئی حدیث اس کی دلیل ہے۔
’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘۔

طبقاتی نظام کے حقائق

ہمارے ملک میں کئی قسم کے نظام تعلیم رائج کرنے کے پیچھے کئی محرکات پوشیدہ ہیں اور یہ کہ سرمایہ دار اور جاگیردار طبقہ اوران کی اولاد ہمیشہ حکمران رہنے کا خواب اسی طبقاتی نظام تعلیم کی مرہون منت ہے۔ شعبہ تعلیم کے یہ درجات اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اس سے حکمران طبقہ فائدہ اٹھاتا چلا آرہا ہے۔ ذرا سوچئے بیکن ہاس جیسے اسکول، سرکاری اسکول اور مدرسہ سے فارغ التحصیل طلبائ عملی زندگی میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیسے کرسکیں گے۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال کا مضمون تینوں نظام سے فارغ التحصیل طلبائ پڑھ کر تے ہیں مگر تینوں نظاموں کے تدریسی مواد اور معلمین کے مختلف نقطہ نظر کی وجہ سے تین الگ الگ علامہ اقبال کے تصورات سامنے تے ہیں ۔ اس بارے ماہر تعلیم روبینہ سہگل کہتی ہیں ۔

بعض مدارس کے طلبائ میں عسکریت پسند رویہ بہت زیادہ فروغ پزیر ہے اسی طرح سرکاری اسکولوں کے طلبائ میں یہ تناسب بہت زیادہ ہے لیکن یہ بھی نہیں ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے طلبائ طالبات میں تعصبات نہیں ہیں ۔ ریاست اور مدارس کے نصاب میں ایک دلچسپ فرق ہے۔ ریاستی نصاب بہت زیادہ بھارت کے مخالف ہے کیونکہ اسے پاکستان سیکیورٹی کے تناظر میں ترتیب دیا گیا ہے۔ لیکن مدارس کا نصاب ہندوں کے بہت زیادہ خلاف نہیں بلکہ یہ مغرب مخالف زیادہ ہے اور مغربی اقدار کی نفی کرتا ہے‘‘۔

اس کی وجہ سے تفریق اور بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اعلیٰ طبقے کی اولاد اس نظام تعلیم کی وجہ سے بیورو کیریٹ، متوسط طبقے کے بچے کلرک جیسی چھوٹی نوکری اور مزدور کی اولاد مزدوری کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا۔

’’حکمران طبقوں کے نظریات ہر دور میں حکمران نظریات رہے ہیں ۔ جو طبقہ مادی ذرائع پیداوار پر حاوی ہوتا ہے اس طبقے کے نظریات بھی باقی نظریات پر حاوی ہوتے ہیں ۔ جس طبقے کے قبضے میں ذرائع پیداوار ہوتے ہیں ، اسی طبقے کے قبضے میں وہ ذرائع بھی ہوتے ہیں جو خیالات اور نظریات کی پیداوار کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ لہذا جن لوگوں نے پاس خیالات کے ذرائع پیداوار نہیں ہوتے وہ ان خیالات سے متاثر ہوتے ہیں جو حکمران طبقے تیار کرتے ہیں ۔ وہ نظریات جو معاشرے میں غالب ہوتے ہیں معاشرے کے سماجی اور مادی رشتوں کی عکاسی کرتے ہیں ۔ یہ مادی اور معاشی رشتے ہی خیالات کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ سماجی رشتوں میں کچھ طبقے دوسروں پر حاوی ہوتے ہیں لہذا حاکم خیالات اس عدم برابری کے ہی خیالات ہوتے ہیں ۔ حکمران طبقوں کے پاس سوچ کے ذرائع اور ایک خاص شعور ہوتا ہے۔ لہذا وہ اس شعور کے تحت سوچتے ہیں ۔ ان طبقوں کا کسی بھی دور کی ہر چیز پر غلبہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی طاقت اور حکمرانی کو نظریات کے ذریعے بھی فروغ دیتے ہیں ۔ وہ سوچ کے ذریعے بھی حکومت کرتے ہیں ۔ وہ خیالات بنانے والوں کے طور پر اور دانشوروں کے طور پر بھی حاکم ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے وقت کے اور اپنے مفاد کے نظریات کی ساخت بھی کرتے ہیں اور ان نظریات کو معاشرے میں پھیلانے کے ذرائع پر بھی قابض ہوتے ہیں ۔ لہذا ان کے نظریات ہی حکمراں نظریات بن جاتے ہیں ‘‘۔

دوسری جانب مزدور اور غریب طبقے کے نوجوانوں کو ایسی تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑنے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں ۔ اول تو اس طبقے کو اپنے حقوق اور زادی رائے سے واقف ہونے کا موقع فراہم نہیں کیا جاتاکیونکہ اس طبقے کو علم و آگاہی سے دور رکھنا حکمراں طبقے کے مفاد میں ہوتا ہے۔ اس سے ان کے مظالم کی پردہ پوشی بھی ہوتی ہے اور مذاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ علم و شعور کے فقدان کے سبب مزدور اور غریب طبقے کے کچھ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کا وجودمحض امرائ اور حکمراں طبقے کی خدمت کرنا ہے۔ معاشرے میں حکمران نظریات کو نظام تعلیم اور زرائع ابلاغ کے ذریعے عام کیا جاتا ہے۔ ان نظریات کو معاشرے میں اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ تمام لوگ اسے حقیقت اور اپنا نظریہ تسلیم کرتے ہیں ۔ اتنا ظلم سہتے ہیں کہ ظلم سہنے کو اپنی قسمت مانتے ہیں ۔

پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکمرانوں نے اس نظام کو تناور درخت بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر روبینہ اس بارے میں کہتی ہیں کہ پاکستان میں چاہے کوئی بھی نظریہ حاوی رہا ہو اس کے سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل میں مدد دی ہے۔ فوج نے اس نظام کو تحفظ بھی اور سرپرستی بھی کی اور ہر نظریے کو اس نظام کے لیے اچھے کارکن اور فوج کے لیے اچھے سپاہی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

tسرمایہ داری نظام ہر مرحلہ پر اپنے تقاضے بدلتا ہے اور ہر مرحلے پر تعلیمی نظام سے توقع ہوتی ہے کہ بہتر قسم کا مزدور فراہم کیا جائے جدیدیت اور جمہوریت دور سے تبدیلیاں ضرور تی ہیں لیکن اس بات کی بے شمار دلائل ملتے ہیں کہ تعلیم کا سرمایہ داری معیشت سے گہرا رشتہ ہے۔ تعلیم پیداواری طبقے کی شناخت کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ ’’اچھی‘‘ قدریں فراہم کرسکتی ہے بلکہ نئی نئی قسم کے ہنر اور علوم عام کرسکتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے استحصالی پیداواری رشتوں کی ازسرنو تشکیل کی جاتی ہے۔

tخواندہ افراد جو صرف 46 فیصد ہیں کس درجے کے معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ اس کا اندازہ مندرجہ ذیل رپورٹ پڑھ کر کیا جاسکتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ میں پرائمری سطح پر 33 فیصد بچے ایک جملہ پڑھ سکتے ہیں ۔ 27 فیصد مقامی یا اردو زبان میں اپنے سے نچلے جماعتوں کی کہانی پڑھ سکتے ہیں ۔ 27 فیصد ایک سو سے چھوٹے اعداد کی حساب کتاب کرسکتے ہیں اور صرف 13 فیصد تین عددی تقسیم کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ صوبے میں 85 فیصد اسکول چار یا اس سے کم کمروں پر مشتمل ہیں ۔ 20 فیصد اسکول نیا عمارت کے ہیں 60 فیصد پینے کے اور 60 فیصد اسکولوں کو ایک یا دو اساتذہ چلاتے ہیں ۔

tدیگر صوبوں کی صورت حال بھی زیادہ مختلف نہیں ۔ بلوچستان میں مجموعی طور پر 77.7 پرائمری اسکول جانے کی عمر کے بچے اسکول نہیں جاتے۔ اسکول جانے والوں میں 92.2 بچے اپنے سے ایک جماعت کم جو ایک سال قبل وہ پڑھ چکے ہیں میں موجود کہانی نہیں پڑھ سکتے ہیں اور 78 فیصد پچھلی جماعت کے جملے نہیں پڑھ سکتے۔ صوبہ بلوچستان میں اسکولوں کی کل تعداد 12,293 ہے۔ ان میں سے 8,092 بغیر چار دیواری کے ہیں ۔ 846 بغیر چھت کے اور 9,579 اسکولوں بجلی کی سہولیات سے محروم ہیں ۔ 8,827 ایسے اسکول ہیں جہاں ٹوائلٹ موجود نہیں ۔

tبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے یعنی صوبہ پنجاب میں شعبہ تعلیم کی حالت بھی تشویش ناک ہے۔ البتہ دوسری صوبوں کے بنسبت اسے بہتر قرار دیا جاسکتا۔ یہاں 50 فیصد پرائمری اسکول جانے کی عمر کے بچے اسکول سے باہر ہیں ۔

tگلگت بلتستان میں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ مشرف حکومت میں یہاں پہلی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بنی۔ یہاں اعلیٰ تعلیم کے ادارے نہ ہونے کے سبب نوجوان ملک کے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں ۔ کالجوں کی سالانہ مردم شماری برائے سال 2010-11 کے مطابق گلگت بلتستان میں کل 20 کالج ہیں ۔ 15 لڑکوں کے اور 5 لڑکیوں کے ان میں 4537 لڑکے اور 2909 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں ۔ پورے علاقے میں صرف تین ہائر سکنڈری تعلیمی ادارے ہیں ایک ضلع استور اور دو ضلع گانچھے میں ۔ پرائمری اور میڈل اسکولوں کی کل تعداد 1008 ہیں ان میں ضلع گلگت میں 116، اسکردو 384، دیامہ 122، غزر 122، گانچھے 128، استور 112 اور ضلع نہری نگر میں 83 میں موجود ہیں باقی صوبوں سے قدرے بہتر 73 فیصد بچوں کو پرائمری اسکول سطح تعلیم کی رسائی حاصل ہے اور جو 27 بچے اسکول میں داخل نہیں ہوپاتے۔ 5-9 سال کے بچوں کی تعداد 178496 ہے۔ ان میں 92554 لڑکے اور 85942 لڑکیاں شامل ہیں ۔ 19

t1947 میں یہاں صرف 3 میڈل اسکول اور 80 پرائمری اسکول موجود تھے۔ 66 سال گزرنے کے بعد بادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے مگر ان سالوں میں محکمہ تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دے دی گئی۔ اسکول کی تعداد میں تو کسی حد تک اضافہ ہوا ہے مگر تعلیم کے معیار پر سمجھوتا کیا جاتا رہا ہے۔20/4 مردم شماری برائے سال 2010-11 کے مطابق سرکاری اسکولوں کی تعداد 1011 ہے۔ نیم پرائیوٹ اسکول 687 اور نجی اسکولوں کی تعداد 5555 ہے۔ اب دیگر صوبوں کی طرح نجی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ سانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ زیادہ پہلے نہیں دس پندرہ سال قبل گلگت میں ٹیوشن پڑھنا معیوب بات سمجھی جاتی تھی مگر اب کوچنگ سینٹر اور ٹیشن سینٹر کلچر یہاں بھی رائج ہوتا جارہا ہے۔

tنجی تعلیمی اداروں کی غیر موجودگی اور لوگوں کی ذاتی زمین کے مالک ہونے کے سبب یہاں طبقاتی فرق موجود نہیں تھا مگر چند سالوں سے اس علاقے میں بھی طبقاتی فرق پیدا ہوتا جارہا ہے۔ اس کی ایک وجہ نظام تعلیم ہے۔ چند برس پہلے سب بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم ہے۔ چند برس پہلے سب بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے تھے مگر دفاعی اداروں کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں مثلاً رمی پبلک اسکول، کیڈٹ کالج وغیرہ کے بننے کے بعد نظام تعلیم طبقات میں بٹنا شروع ہوگیا۔ 66 سال گزرنے کے باوجود اس خطے میں حکومت نے کوئی میڈیکل اور انجنئرنگ یونیورسٹی نہیں بنائی اور نہ ہی کو فنی تعلیم کا ادارہ موجود ہے۔

t اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں رائج نظام تعلیم کے مختلف اقسام سے فارغ التحصیل بچے عملی زندگی میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرسکتے ہیں ؟؟ کیا دونوں کا سوچنے اور جانچنے کا عمل ایک جیسا ہے؟؟ جواب نفی میں تا ہے کیونکہ نجی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو روز اول سے ہی سرمایہ دارانہ سوچ کے حامل اساتذہ ، انتظامی امور پر فائز منتظمین اور والدین انھیں منافع کمانے اور مزدوروں سے زیادہ کام لینے کے گُرسیکھاتے ہیں ۔ اس طرح طبقات میں موجود فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ یوں نسل در نسل طبقات میں موجود فاصلے کو مزید وسیع کرنے میں نظام تعلیم بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مخصوص نظام تعلیم سے نکلے نوجوان ملک کے وسائل پر قبضہ جماتا ہے اور وسائل کو ایک مخصوص دائرے میں صرف اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ جبکہ دوسرے طبقے کے نوجوان چونکہ ایک ایسے نظام تعلیم سے نکل کر تے ہیں کہ اپنے اوپر قابض طبقے کا مقابلہ میدان تعلیم میں نہیں کرسکتا۔ کیونکہ وہ بے سرو سامانی کے عالم میں ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی حالت مزید کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ معاشرتی، معاشی اور ذہنی طور پر خود کو مزید کمزور کرتے ہیں ۔ یوں یہ طبقہ محنت مزدوری اور خدمت میں لگ جاتا ہے۔ یہاں سے کئی دیگر مسائل اس طبقے کے نوجوانوں کے سامنے تے ہیں ۔

tپاکستان کے ئین کے شق نمبر 25 کے مطابق 5-16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو اتبدائی اور بنیادی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔21 مگر پاکستانی حکومت پچھلے 66 سالوں سے ئین کے شق ن37  اور 38 کی شعوری طور پر خلاف ورزی کررہی۔ اب ایک ایسا نظام تعلیم ناگزیر ہے جس میں  فرد کو یکساں مواقع فراہم ہوں ۔

نوجوانوں کا معروف انقلابی رہنما چی گویرا نے ایک مرتبہ اپنے گوریلا فائٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر تم چاہتے ہو کہ وہ (ارباب اختیار) تمہیں دھوکہ نہ دے سکیں تو لکھنا پڑھنا سیکھو۔ کیونکہ جو لکھنا پڑھنا جانتا ہو اسے سانی سے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا‘‘ ہمارے ارباب اختیار سختی سے اس بات پر عمل پیرا ہے کہ غریب طبقہ علم و تعلیم سے دور رہے۔ اس مقصد کے لیے نظام تعلیم کا سہرا لیتے ہیں ۔ تعلیم تمام مسائل کا حل ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک کا نظام تعلیم ہی مزید مسائل پیدا کرتا ہے۔ کسی دینی مدرسے سے فارغ التحصل کا مقابلہ بالکل نہیں کرسکتا۔ کیونکہ مدرسے سے صرف عربی رٹ کر تا ہے۔ لڑکیاں جو فقط بہشتی زیور اور کتاب النکاح کے مضامین پڑھ کر تی ہیں عملی زندگی میں ان لڑکیوں سے کیسے مقابلہ کرسکیں گی جو سائنس کے بنیادی مضامین پڑھ کر تی ہیں ۔ چنانچہ ان میں ایک بہت بڑا خلیج پایا جاتا ہے۔ ان دونوں کے تدریسی مواد میں اتنا بڑا فرق ہے کہ دونوں ایک ٹیبل پر ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے اگر بیٹھ بھی گئے تو ان کے سوچنے جانچنے اور پرکھنے کے انداز میں موجود فرق کی وجہ سے محاذ رائی اور تصادم کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح سرکاری تعلیمی ادارے کے طالب علم اور کیمبرج سسٹ کے طالب علم کا موازنہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ سرکاری اسکولوں کی حالت ناگفتہ بہ، اساتذہ اسکول سے غائب (مگر حاضری کے رجسٹر میں حاضر)، اور تنخواہ وصول کرتے ہیں ) اور احتساب کا کوئی نظام نہ ہونے کے سبب تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا فقدان بھی پایا جاتا ہے۔

مدارس کا نصاب دیکھ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہاں کے طلبائ کس سمت محو سفر ہیں اور ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ انہیں ذہنی نشونما اور تربیت کا مواقعہ ہی فراہم نہیں کیا جاتا ہے تو بھلا ان سے توقعات کیونکر کرے۔ یہی مسئلہ سرکاری اور چھوٹے نجی اسکولوں کے ساتھ درپیش ہے۔ یہ طلبائ بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے ہیں ۔ انہیں پڑھانے والے اساتذہ خود بغیر تربیت یافتہ اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں ۔

دوسری جانب کیمرج اور بڑے نجی اسکولوں میں روز اول سے ہی بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ای سی ڈی، بچپن کی ابتدائی نشونما کے لیے ابتدائی مخصوص دو تین سال لگادیے جاتے ہیں ۔ اس دوران بچوں کو کھلونوں اور کھیل کود کے ذریعے بنیادی چیزیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ اساتذہ کو ماہرین نفسیات اور ماہرین تعلیم تربیت دیتے ہیں جبکہ سرکاری اسکول اور مدارس میں فرش پر یا پھٹے ٹاٹ پر بٹھایا جاتا ہے اور رٹایا جاتا ہے۔ اگر بچے کو سبق یاد نہیں ہوتا تو استاد/قاری کاہل، سست، نالائق، کند زہن جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ بعض مدارس اور اسکولوں میں صرف باتوں پر اکتفا نہیں کیا جاتا ہے اخباری رپورٹ کے مطابق بعض استاد اور قاری ڈنڈے اور تار کی مدرسے جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔ یہ الفاظ بچے کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور بچہ نفسیاتی طور پر خود کو کمزور محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایک ایسا بچہ جسے بچپن سے لے کر نوجوانی کی عمر تک سیکھنے کے کئی مراحل اور اچھے درس گاہوں سے استفادہ اٹھایا اور دوسرا مدرسہ یا سرکاری اسکول کے پھٹے ٹاٹ پر قاری یا استاد سے ڈانٹ سن کر اور رٹ کر جوان ہوا ہو، دونوں میں کتنا خلیج ہوگا؟ کیا ان دونوں کو ایک ہی امتحان گاہ میں بٹھایا جاسکتا ہے؟ بالکل نہیں ان دونوں کی سوچ، مقاصد، اطوار، رائے حتیٰ کہ لب و لہجہ اور لباس بھی ایک دوسرے کے لیے قابل قبول نہیں ہوتا۔ لہذا اپنے تعلیمی اداروں سے فارغ ہو کر الگ الگ راستوں کا انتخاب کرتے ہیں ۔ وہ تمام نوجوان جن کی تعلیم و تربیت بڑے بڑے نجی اسکولوں مثلاً کیمرج سسٹم کے تحت ہوئی ہوں ، انتظامی امور کو سنبھالتے ہیں جبکہ چھوٹے نجی اسکولوں اور سرکاری اسکولوں سے فارغ التحصیل نوجوان کلر کی سطح کی نوکری اور مدارس سے تعلیم پانے والے مساجد کے پیش امام یا پھر مدارس میں ہی درس و تدریس سے وابستہ ہو جاتے ہیں یوں ایک مخصوص طبقہ ملک کے وسائل اور انتظامی امور پر قابض ہوجاتا ہے اور امیر سے امیر تر ہو جاتا ہے دوسری طرف غریب خدمت گزاری اور غریب سے غریب تر ہوتا جاتا ہے ملک کا نظام تعلیم ان طبقات میں موجود خلیج میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ پاکستان کے ئین کے رٹیکل 38 کے مطابق عام دمی کے معیار زندگی کو بلند کرکے دولت اور وسائل، پیداوار و تقسیم کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں اس طرح جمع ہونے سے روک کر کہ اس سے مفاد نقصان پہنچے اور اجرو ماجور اور زمیندار و مزارع کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلا لحاظ جنس وزارت مذہب یا نسل عوام کی فلاح و بہبود کی حصول کی کوشش کرے گی۔

(ب) تمام شہریوں کے لیے ملک میں دستیاب وسائل کے اندر معقول رام و فرصت کے ساتھ کام اور مناسب روزی کی سہولتیں مہیا کرے گی۔ کیا یہ کھلا تضاد اور ئین کا انحراف نہیں ؟ ئین بنانے والے ہی اس پر کوئی عمل نہیں کرتے۔

روبینہ سہگل کے مطابق علم اور طاقت کا پس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے حاکم و محکوم دونوں استعمال کرتے ہیں ۔ حکمران طبقے اور طاقت ور گروپ علم کو حکومت کرنے اور دوسروں پر کنٹرول کی غرض سے استعمال کرتے ہیں ۔ اسی طرح محکوم طبقے، عورتیں اور اقلیتیں علم کو زادی کی تحریکوں میں استعمال کرتے ہیں ۔22 بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں ۔ مہذب قومیں اپنے اس انمول خزانے کی حفاظت کرتی ہیں ۔ اس کی نشونما میں بہتیرین دماغ اور کثیر بجٹ لگاتی ہیں ۔مگر افسوس کہ ہم آج تک اجتماعی طور پر بچوں اور ملک کے نوجوان نسل کو اثاثے کے طور پر نہیں اپنا سکے ۔ اس ملک یہ نسل بھی درجات اور طبقات کے مختلف حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ (روزنامہ ڈان کے ایک لکھاری نے ان بچوں کی درجہ بندی کچھ یوں کی ہے) امیر بچے، غریب بچے، صاحب کے بچے،دوست کے بچے، کام کرنے والے بچے، گلی میں آوارہ گھومنے والے بچے، سگنل پر زبر دستی گاڑی کے شیشے صاف کرنے اور گالیاں کھانے والے بچے، بھیک مانگتے بچے، چور بچے، بدمعاش بچے، بھوکے بچے، ننگے بچے، اسکول جاتے بچے اور اسکو ل کے باہر حسرت سے تکتے بچے ۔۔۔۔۔۔۔

کوئی شخص ڈنڈے یا لکڑی کی مدد سے کتے کو مارے اور تنگ کرے تو وہ کتا طیش میں کر جواباً اس شخص پر حملہ کرتا ہے۔ وہ لکڑی کو نہیں کاٹتا مگر ہمارے لوگ ’’لکڑی‘‘ کو قصور وار ٹھہرا کر اسے سزا دینے کی بات کرتے ہیں اور اصل مجرم پس پردہ ہی رہ جاتا ہے۔ ہمارا رد عمل اس کتے سے بدتر ہے۔ وہ اصل مجرم کو پہنچانتا ہے اور بجائے لکڑی کو کاٹنے کے حملہ کرنے والے پر حملہ کرتا ہے۔ مگر ہمارا رویہ اور ردعمل اس کے برعکس ہے۔ نظام تعلیم کے اندر موجود خرابیاں اور کوتاہیاں اپنی جگہ مگر اس نظام کے چلانے والوں کو ہم پہچاننے کے باوجود کچھ نہیں کہتے۔ ہم اس نظام میں موجود طبقات کو برا کہتے ہیں مگر طبقات بنانے والا ہماری نظروں سے اوجھل

رہتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک کے عوام ’’لکڑی اور ڈنڈا‘‘ کو مجرم قرار دیکر اسے برا بھلا کہتے ہیں اور حملہ ور‘‘ کو یکسر بھلادیتے ہیں ۔

تحریر: علی احمد

Latest posts by Editor (see all)

Comments

comments

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>